محمداعظم خان پر کئے گئے تبصرہ کے بعد بی جے پی کو منور سلیم کی دوٹوک
نئی دہلی،یکم جولائی (ایس او نیوز؍آئی این ایس انڈیا )بارہ بنکی میں امت شاہ نے چند روز قبل وزیر اعلیٰ کے آئینی حقوق کو چیلنج دیتے ہوئے ساڑھے تین وزیر اعلی کہہ کر محمد اعظم خان کا نام لیا تھا ۔ممبرآف پارلیمنٹ چودھری منور سلیم کی جانب سے تاریخی روزہ افطارمیں مہمان خصوصی کے طور پرشرکت کرتے ہوئے سینئر مسلم رہنما محمد اعظم ں نے مذکورہ تناظر میں صحافیوں کے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے رد عمل کے طورپر امت شاہ کے غلط سوال کا درست جواب دیا ۔ ایس پی ممبر پارلیمنٹ چودھری منور سلیم نے فرقہ پرست ذہنیت میں ڈوبے ہوئے بی جے پی رہنما کی طرف سے مسلم نفرت کی بنیاد پر کئے گئے اس تبصرہ کی سخت مذمت کی ہے جس میں بی جے پی رہنماؤں کی طرف سے یہ کہا گیا ہے کہ محمد اعظم کوبھوپال میں ریاستی مہمان کا درجہ نہیں دیا جانا چاہئے۔منور سلیم نے کہا کہ اس قسم کا تبصرہ کرنے والے لیڈروں کو جمہوری اقدار، آئینی حقوق اور صحت مند سیاسی روایات کی تاریخ کو پڑھ کر ہی کچھ بولنا چاہئے ۔ ایس پی ممبر پارلیمنٹ سلیم نے اقتدار کے گھمنڈ میں چور خواتین وزیر کے اس غیر آئینی جملے کا اپنے بیان میں ذکر کرتے ہوئے کہا جس میں مندرجہ بالا وزیر نے یہ کہا تھا کہ ’ہمارے ساتھ ہو تو رام زادے اور ہمارے خلاف ہو تو حرام زادے۔ اسی طرح بی جے پی لیڈر جنرل وی کے سنگھ نے ایک غریب دلت کی موت کا کتے۔بلی کی موت سے موازنہ کرتے ہوئے ملک کے 28 کروڑ دلتوں کی دل شنکی کی تھی ۔ اس طرز عمل کی ہم لوگوں نے پارلیمنٹ میں جم کر تنقید کی لیکن اتر پردیش حکومت کے کسی وزیر یا سماج وادی پارٹی کے کسی لیڈر نے کبھی اس قسم کا بیہودہ بیان نہیں دیا کہ مذکورہ بالا وزیر اگر اتر پردیش آئیں تو انہیں ریاستی مہمان کا درجہ نہیں دیا جانا چاہئے ۔ انہوں نے کہاکہ ودیشا بی جے پی لیڈروں کی طرف سے میمورنڈم میں ہندوستان کے سچے سپوت اور جناح کے پاکستان کو ٹھوکر مارنے والے محمداعظم خاں صاحب پر بھارت ماں کو ڈائن کہنے کا سنگین الزام، ہندوستان کے نظام عدل پر حملہ ہے۔ نہ صرف ہندوستان بلکہ پوری دنیا میں اپنی بے باک تبصرے کے لئے پہچانے جانے والے ایس پی لیڈر محمد اعظم خاں کا اگر کوئی گناہ ہے تو بس یہ کہ وہ غلط سوال اور غلط الزامات کا بے باک جواب دینے کے عادی ہیں ۔امت شاہ کی قیادت میں کمزور ہوتی بی جے پی پہلے دہلی پھر بہار اور اب بنگال میں اپنی کراری شکست سے پریشان ہوکر اتر پردیش کے انتخابات کو مدنظر رکھتے ہوئے سیاسی تبصروں کو مذہب سے جوڑ دینے پر آمادہ ہے۔ہم آہنگی بگاڑنے کی بحث کرنے والی بی جے پی ممکنہ طور پر بغیر مذہب کا سہارا لئے جمہوری روایات کے مطابق جواب دینے میں خود کو مکمل نہیں سمجھ رہی ہے ۔ ودیشا بی جے پی کے عہدیداروں کا غرور میں ڈوبا ہوا میمو رنڈم یہ بتاتا ہے کہ کبھی ضلع کی پانچوں اسمبلی سیٹوں پر قبضہ رکھنے والی بی جے پی بمشکل تمام تین اسمبلی سیٹوں پر معمولی فرق سے جیت درج کرا سکی ہے، لیکن جس طرح ضلع میں گھسنے اور نکالے جانے کا اعلان عوامی طور پر ہو رہا ہے اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ مستقبل کے انتخابات میں معمولی ووٹوں سے جیتنے والی تینوں اسمبلی سیٹیں بھی بی جے پی کارکنوں کی غیر جمہوری تبصرے کی وجہ سے گنوا کر بی جے پی سے پاک ودیشا بنا دیں گے ۔
منور سلیم نے ہندوستان کی مشترکہ ثقافت کی پیروی کرتے ہوئے کہا کہ روزعلحیدگی پسندوں کو برا بھلا کہنے والی بی جے پی ایک طرف کشمیر میں محبوبہ مفتی کے ساتھ حکومت بناتی ہے تو دوسری طرف بی جے پی کی نظریاتی تنظیم آر ایس ایس 140 مسلم سفرا کو جمع کر کے روزا افطار منعقد کر رہا ہے اور اسی بی جے پی کے کارکن دو رہنماؤں کے دیئے جانے والی عمل اور رد عمل کو مذہب سے جوڑ کر بے سبب تنازعہ کھڑا کر رہے ہیں ۔ منور سلیم نے اپنے تفصیلی بیان میں وزیر اعظم مسٹر نریندر مودی کی طرف سے آگرہ کے جلسہ عام میں محمد اعظم خاں کی بھینسوں کا عوامی پلیٹ فارم سے تذکرہ کرنے کا ذکر کرتے کہا کہ مودی جی کے ان جملوں نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ جس غریب ملک میں 62فیصد زمین بنجر ہے، 43 کروڑ لوگ 32 روپے یومیہ اپنے خاندان کو پالتے ہیں، جہاں تقریبا 7 کروڑ لوگ آلودہ پانی پینے سے سنگین بیماریوں میں مبتلا ہیں، تقریبا 12 کروڑ نوجوان پڑھے لکھے ہوتے ہوئے بھی بے روزگار ہیں اس ملک کے سربراہ کی نظر مسائل سے دوچار لوگوں پر نہ ہوکر محبت کے شہر آگرہ میں محمد اعظم خاں صاحب کی بھینسوں پر جاتی ہے ۔ منور سلیم نے حکومت چلانے والوں سے اور محمداعظم خاں پر الزام لگانے والوں سے درخواست کی ہے کہ وہ اس سچ کو قبول کریں کہ محمداعظم خاں اور میری زندگی کا حتمی مقصد ملائم سنگھ یادو اور اکھلیش یادو کو سیاسی طور پر طاقتور بنانا ہے۔منور سلیم نے ملک کے گنگاجمنی مزاج کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ 1992 میں بابری مسجد انہدام کے بعد کلیان سنگھ اور پٹوا جی کی حکومتیں شکست خوردہ ہوئی تھیں اور نئے نظام نے جنم لیا تھا۔ اس سے فرقہ وارانہ نفرت پھیلانے والوں کو یہ جان لینا چاہئے کہ ملک امن ، ہم آہنگی اور محبت کا عبادی ہے۔ لہذا سیاسی خیالات کو مذہبی شکل دینے کا کمزور کام سیاسی کارکنوں کو بند کرکے معاشرے کے آخری شخص کی خدمت میں لگنا چاہئے ۔